نئی دہلی، 8 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مودی حکومت 2.0 کے بجٹ میں پٹرول اور ڈیزل پر تقریبا 2 روپے فی لیٹر کا اضافی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔اس میں ایک روپے فی لیٹر کا ایکسائز اور 1 روپے فی لیٹر کا سیس شامل ہے۔اس کا اثر یہ ہے کہ اب دہلی میں ملنے والے قریب 73 روپے فی لیٹر کے پٹرول میں ٹیکس کا حصہ بڑھ کر 35.5 روپے فی لیٹر تک ہو گیا ہے۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی بجٹ تقریر کے اگلے دن ہی پٹرول کی قیمتوں میں 2.5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2.3 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو گیا۔دہلی میں پیر کو پیٹرول کی قیمت 72.96 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 66.69 روپے فی لیٹر ہے۔بزنس سٹینڈرڈ کے مطابق، پٹرول کی بنیادی قیمت 33.91 روپے فی لیٹر ہے، یعنی اگر اس میں کمیشن وغیرہ شامل کر لیں تو بھی پٹرول فی لیٹر قریب 38 روپے میں خریدی جا سکتی۔ابھی پٹرول پر لگنے والا ٹیکس بنیادی قیمت کا 105 فیصد ہو گیا ہے۔پٹرول پر کل ٹیکس 35.5 روپے فی لیٹر کا ہے اور اس میں 19.98 روپے فی لیٹر ایکسائز یعنی ایکسائز ہے،اس کے علاوہ 15.51 روپے فی لیٹر کا اسٹیٹ ویٹ اور 3.56 روپے فی لیٹر کا ڈیلروں کا کمیشن ہوتا ہے۔اسی طرح ڈیزل پربنیادی قیمت کا 67 فیصد تک ٹیکس لگ رہا ہے۔دہلی میں 66.69 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت میں بنیادی قیمت 38.54 روپے فی لیٹر ہے اور اس پر 15.83 روپے فی لیٹر کی ایکسائز ڈیوٹی اور 9.82 روپے کا اسٹیٹ وی اے ٹی ہوتا ہے۔2.50 روپے فی لیٹر ڈیلروں کو کمیشن دینا ہوتا ہے،یعنی اگر ٹیکس نہیں ہوتا تو ڈیزل صرف 41 روپے فی لیٹر میں ہی ملتا۔بجٹ میں ایکسائز بڑھانے کا اثر یہ ہے کہ اب پٹرول ڈیزل کی فروخت پر ٹیکس کے معاملے میں مرکزی حکومت کو ریاستوں کے مقابلے زیادہ فائدہ ہو گا۔ٹیکس بڑھانے سے مرکزی حکومت کو قریب 30000 کروڑ روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت سیس لگاتی ہے اس کا کوئی حصہ ریاستوں کو نہیں دینا ہوتا،صرف بنیادی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ ریاستوں کو تقسیم کرنا ہوتا ہے۔اصل میں اکنامک سروے میں یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اس سال پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں کمی آئے گی، اس کو دیکھتے ہوئے حکومت نے پہلے ہی ٹیکس بڑھا کرآمدنی میں ہو سکنے والے نقصان کی تلافی کر لی ہے۔